1 اکتوبر 2011 - 20:30

اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے ادارے نے بحرين ميں فوجي عدالت کے ذريعے طبي شعبے کے کارکنوں کو سزائيں سنائے جانے کي مذمت کي ہےـ

ابنا: اقوام متحدہ کي انساني حقوق کمشنر کے ترجمان روپرٹ کيلويل نےکہا کہ سنگين فوجي سزائيں سنائے جانے سے عام شہريوں ميں خوف و ہراس پھيل رہا ہےـبحرين کي فوجي عدالت نے رواں ہفتے ميں طبي عملے کے بيس افراد کو پانچ سے پندرہ سال تک کي جيل کي سزائيں سنائي ہيں ـ تيس افراد کو مظاہروں ميں شرکت کے جرم ميں تين سال سے عمر قيد تک کي سزائيں سنائي گئي ہيں ـ

بحرين کے حکام ڈاکٹروں اور طبي عملے کے افراد پر حکومت مخالف سرگرمياں انجام دينے، جنگي وسائل اپنے پاس رکھنے اور طبي وسائل کي چوري کے الزامات عائد کئے ہيں ـ

ڈاکٹروں اور طبي عملے کے افراد کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنياد ہيں اور ا نہوں نے مظاہروں کے دوران زخمي ہونے والے افراد کے علاج کے علاوہ کوئي اور کام انجام نہيں ديا ہےـ

بحرين ميں چودہ فروري سے مظاہرے جاري ہيں اور عوام جمہوري حقوق کا مطالبہ کر رہے ہيں ـ مظاہرين کي سرکوبي کے لئے سعودي عرب نے اپنے فوجي بحرين بھيجے ہيں ـ بحريني اور سعودي اہلکاروں کے حملوں ميں سو سے زائد افراد شہيد اور سيکڑوں ديگر زحمي ہوئے ہيں ــ...........

/169